انہوں نے کہا کہ اگلےہفتے مکہ معاہدے کے تحت ہنگامی میٹنگ ہوگی جس میں تازہ صورتحال کاجائزہ لیا جائے گا، اس وقت سعودی عرب میں جوحالات ہیں وہ ہنگامی میٹنگ میں زیرغور آئیں گے۔
نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ نے کہا کہ 6 سے زائد ممالک مکہ مکرمہ ڈیفنس پیکٹ میں شامل ہونا چاہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سعودی عرب پر17 سے 18 حملے ہو چکے ہیں، ہم سعودی عرب کے دفاع کے پابند ہیں،۔
اسحاق ڈار نے مزید کہا کہ اقوام متحدہ کا چارٹربھی اس طرح کےاتحاد کوکارروائی کی اجازت دیتاہے، نیٹو بھی اسی طرز پر کام کر رہی ہے۔
وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ 31 اگست کو مکہ معاہدے کے تحت اجلاس ہوا تھا جس میں پہلے جنرل سیکرٹری کا فیصلہ ہوا، ہم نےلیفٹننٹ جنرل (ر) نعمان محمود کا نام دیا جو بڑے اچھے اور پرہیزگار افسر ہیں۔
ایران امریکا تنازع کے حوالے سے بات کرتے ہوئے اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ ایرانی صدرمسعود پزشکیان اور وزیرخارجہ عباس عراقچی دونوں کی خواہش ہے کہ کسی طرح یہ معاملہ ختم ہو، اس میں فریقین کی کوشش ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ حاصل کریں۔
اسحاق نے آبنائے ہرمز کے حوالے سے کہا کہ آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آمد و رفت کی کوئی فیس یا سروس چارج نہیں ہونا چاہیے۔
صومالی قزاقوں کی جانب سے یرغمال بنائے گئے بحری جہاز پر ریسکیو آپریشن کے حوالے سے بات کرتے ہوئے نائب وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ صومالیہ کےحکام نے بحری قزاقوں سے لڑکر مغویوں کو رہا کروایا، بدقسمتی سے اس واقعے میں 3 پاکستانی بھی جاں بحق ہوئے۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ 4 زخمی افراد کل کراچی پہنچ جائیں گے، پوری کوشش ہے کہ رفیع اللہ، کاشف عمر اور محمود انصاری کی میتیں دو تین دن میں لے آئیں۔
انہوں نے کہا کہ عمران علی، یاسر علی اور یوسف حسین شپ میں موجود ہیں۔




