244

جسٹس منصور کا چیف جسٹس کو خط، 6 سوالات کے جوابات مانگ لیے

تفصیلات کے مطابق نئےعدالتی سال سے پہلے جسٹس منصور علی شاہ نے چیف جسٹس کو ایک اور خط ارسال کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی کا اجلاس کیوں نہیں بلایا گیا؟

سات صفحات پر مشتمل خط کے متن میں کہا گیا ہے کہ پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی اجلاس میں قانونی ذمہ داریاں پوری کرنے کیوں نہ بلایا گیا؟

عدلیہ کی آزادی سے متصادم ججز کی چھٹیوں سے متعلق نیا آرڈر کیوں جاری ہوا؟ اور 26ویں ترمیم کیخلاف درخواستیں فل کورٹ میں کیوں نہ مقرر کی گئیں؟

خط کے متن میں لکھا ہے کہ چیف جسٹس صاحب آپ کے بعد موسٹ سینئر جج ہونے کے ناطے ادارے کیلئے خط لکھا،آپ کو کئی خطوط لکھے لیکن آپ کی طرف سے تحریری نہ زبانی جواب ملا، 8ستمبر کو جوڈیشل کانفرنس میں عوامی سطح پر6 سوالات کے جواب دیں۔

جسٹس منصورعلی شاہ نے خط میں کہا ہے کہ عوامی سطح پر چیف جسٹس پاکستان کا جواب ججز اور عوام کو اعتماد دے گا،آپ کا جواب یقین دلائے گا آپ کی ریفارمز شفاف اور آئین کے مطابق ہیں۔

انہوں نے لکھا کہ یہ نہ سمجھیں یہ کوئی ذاتی، متاثرہ یا رنجیدہ شخص کا خط ہے، آپ کے دور میں سب سےزیادہ 3956مقدمات میں نے نمٹائے، آپ کے دور میں35رپورٹٹد فیصلے تحریر کرچکا ہوں۔

خط کے مطابق اکتوبر2024سے پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی کی ایک بھی باضابطہ میٹنگ نہیں ہوئی، بینچز بغیرمشاورت کے تشکیل دیے جارہے ہیں، ایک ذمہ دار کے طور پرخط لکھا ہے۔

یکطرفہ طور پر بینچز کی تشکیل اور کاز لسٹ جاری ہورہی ہے، ججز روسٹر بغیر مشاورت کے دستخط کیلئے بھیجے جاتے ہیں۔

سینئر ججزکو 2 رکنی جبکہ جونیئر ججز کو 3 رکنی بینچز کیوں دیے جارہے ہیں؟ قومی اہمیت کے مقدمات سینئر ججز کے سامنے کیوں مقرر نہیں کیے جارہے؟

سینئر ججز کارکردگی کے بجائے انہیں کنٹرول کرنے کیلئے سائیڈ لائن کیے جارہے ہیں، مجھے یقین ہے کہ آپ اس عدالتی کانفرنس کو ادارہ جاتی تجدید کا موقع سمجھیں گے۔

سوالات کے جوابات دے کر اجتماعیت اور آئینی وفاداری کے اصولوں کی توثیق کرینگے، ججز کی تعداد میں اضافہ مقدمات کی تعداد کےبجائے اندرونی توازن کیلئے کیا گیا۔

26ویں آئینی ترمیم پر دائر درخواست ایک سال سے زیرالتوا ہیں، 26ویں ترمیم مقدمات کو نئے آنے والےججز کے علاوہ فل کورٹ کو سننا چاہیے۔

26ویں ترمیم فیصلے تک چیف جسٹس آفس کی قانونی حیثیت پر سوال ہے، 26ویں ترمیم کے بعد چیف جسٹس آفس کی آئینی حیثیت بھی مشکوک ہے۔

مجھے آپ پر اعتماد ہے نئے عدالتی سال پر جواب دے کر نئی شروعات کریں گے، قوم اور ججز چیف جسٹس کی جانب دیکھ رہے ہیں کہ واضح جواب ملے۔ قوم اور ججز ان سوالات پر چیف جسٹس کی خاموشی نہیں چاہتے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں