غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ورلڈ فوڈ پروگرام کی ڈائریکٹر نے کہا ہے کہ حماس غزہ پہنچنے والی امداد کی لوٹ مار نہیں کر رہی، جب فلسطینی ڈبلیو ایف پی کا ٹرک دیکھتے ہیں تو ان کی طرف دوڑ پڑتے ہیں۔
سی بی ایس نیوز سے بات کرتے ہوئے جب سنڈی مک کین سے پوچھا گیا کہ کیا انھوں نے کوئی ثبوت دیکھا ہے کہ حماس خوراک کی وہ تھوڑی مقدار بھی چھین کر لے جا رہی ہے جس کی اسرائیل 2 ماہ سے زیادہ کی مکمل ناکہ بندی کے بعد اب غزہ میں جانے کی اجازت دے رہا ہے؟ ڈبلیو ایف پی کی ایگزیگیٹو ڈائریکٹر سینڈی میک کین نے امریکی میڈیا کو بتایا ’’نہیں بالکل نہیں۔‘‘ انھوں نے کہا یہ بس غزہ کے مایوس لوگ ہیں، یہ لوگ بھوک سے مر رہے ہیں کیوں کہ صہیونی ریاست بھوک کو ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہی ہے، غزہ میں روزانہ 600 امدادی ٹرکوں کی ضرورت ہے۔




