ٹرائی سیریز کے فائنل معرکہ میں پاکستان نے افغانستان کو بری طرح دھول چٹاتے ہوئے بدترین شکست سے دوچار کردیا، گرین شرٹس نے افغانستان کو یکطرفہ مقابلے میں 75 رنز سے ہراتے ہوئے ٹرائی سیریز جیت لی۔
افغانستان کی ٹیم 142 رنز کے تعاقب میں 66 رنز پر ڈھیر ہوگئی، محمد نواز نے شاندار بولنگ کرتے ہوئے ہیٹ ٹرک کی، محمد نواز نے 4 اوور کے اسپیل میں 19 رنز دیکر 5 شکار کیے۔
افغانستان کے 9 بلےباز ڈبل فگر میں بھی داخل نہ ہوسکے، کپتان راشد خان 17 اور صدیق اللہ اتل 13 رنز بناکر کچھ مزاحمت کرپائے، درویش رسولی، عظمت اللہ اور کریم جنت کوئی رن بنائے بغیر پویلین لوٹے۔
5 وکٹیں لینے کے علاوہ بیٹنگ میں بھی عمدہ کارکردگی دکھانے والے محمد نواز کو آل راؤنڈ پرفارمنس پر میچ کا بہترن کھلاڑی قرار دیا گیا جبکہ مین آف دی سیریز کا ایوارڈ بھی ان کے حصے میں آیا۔
اس سے قبل پاکستان نے پہلے کھیل کر 8 وکٹوں کے نقصان پر 141 رنز بنائے، پاکستانی بیٹر اسپنرز کے سامنے کافی جدوجہد کرتے نظر آئے، گرین شرٹس کی طرف سے کوئی بھی بیٹر 30 رنز کے ہندسے سے اوپر نہ جاسکا۔
ون ڈاؤن پوزیشن پر آنے والے بیٹر فخر زمان 27 رنز بنا کر ٹاپ اسکورر رہے جبکہ آل راؤنڈر محمد نواز نے 25 رنز کی اننگز کھیلی۔
کپتان سلمان علی آغا 24 رنز بنا پائے انھوں نے راشد خان کے ایک اوور میں دو چھکے بھی لگائے جبکہ اوپنر صائم ایوب 17 اور فہیم اشرف 15 رنز بنانے میں کامیاب رہے۔
افغان کپتان راشد خان نے 38 رنز دیکر 3 وکٹیں حاصل کیں، ان کے علاوہ افغان اسپنر نور احمد اور فاسٹ بولر فضل حق فاروقی نے 2،2 کھلاڑیوں کا آؤٹ کیا۔
دریں اثنا ٹرائی سیریز فائنل کےلیے پاکستان نے لیفٹ آرم فاسٹ بولر سلمان مرزا کی جگہ لیگ اسپنر سفیان مقیم کو ٹیم میں شامل کیا۔
ٹاس جیتنے کے بعد گفتگو کرتے ہوئے سلمان علی آغا کا کہنا تھا کہ بڑا اسکور بناکر دباؤ ڈالنے کیلئے پہلے بیٹنگ کرنا چاہتے ہیں۔
پاکستان کرکٹ ٹیم کے ٹی ٹوئنٹی کپتان سلمان علی آغا کا مزید کہنا تھا کہ کوشش کریں گے کہ اس میچ کو بھی ایک عام میچ کی طرح کھیلیں۔




