389

مدرسے کے استاد کے خلاف ریپ کا مقدمہ: ’مایوس ہو کر اس واقعے کی خود خفیہ ویڈیوز بنائیں‘

لاہور میں پولیس نے ایک دینی مدرسے کے استاد اور سابق مہتمم کے خلاف ایک طالب علم کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کے الزام میں مقدمہ درج کر لیا ہے تاہم پولیس تاحال انھیں گرفتار نہیں کر پائی ہے۔

لاہور کے نارتھ کینٹ پولیس سٹیشن میں جمعرات کے روز اس وقت مقدمہ درج کیا گیا جب حال ہی میں سوشل میڈیا پر چند ویڈیوز سامنے آئیں جن میں ملزم کو ایک طالب علم کا ریپ کرتے ہوئے دیکھا گیا۔

ان ویڈیوز کے سامنے آنے کے بعد پاکستان میں سوشل میڈیا کی ویب سائٹس پر لوگوں کی طرف سے شدید ردِ عمل دیکھنے میں آیا جس میں زیادہ تر لوگ ملزم کی گرفتاری کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

ملزم لاہور کے مدرسے جامعہ منظور الاسلامیہ میں معلم تھے اور ان پر ریپ کا الزام عائد کرنے والے طالب علم اسی مدرسے میں زیرِ تعلیم تھے۔
تھانے میں درج مقدمے میں طالب علم نے دعوٰی کیا ہے کہ ملزم ‘گذشتہ کچھ عرصہ سے انھیں بلیک میل کر کے مسلسل جنسی زیادتی کا نشانہ بناتا رہا ہے۔’ ان کا کہنا تھا کہ مدرسے کی انتظامیہ کے سامنے ملزم کی شکایت کرنے کے بعد ثبوت کے طور پر انھیں ویڈیوز بنانی پڑی تھیں۔

سوشل میڈیا پر ویڈیوز سامنے آنے کے بعد پولیس ملزم سے پوچھ تاچھ کرنے کے لیے ان کے مدرسے پر گئی تھی تاہم وہ اس سے قبل مدرسہ چھوڑ کر جا چکے تھے۔

مدرسہ انتظامیہ نے پولیس کو بتایا کہ ’محلے کے چند افراد کی جانب سے ان ویڈیوز کی طرف توجہ مبذول کروانے پر مدرسہ انتظامیہ نے ملزم کو نوکری سے فارغ کر دیا تھا۔‘ اس کے بعد وہ مدرسہ چھوڑ کر جا چکے تھے۔
پولیس کو درج کروائی گئی شکایت میں طالب علم نے یہ الزام بھی عائد کیا ہے کہ یہ واقعہ منظرِ عام پر لانے کے بعد انھیں ملزم کے بیٹوں کی جانب سے جان سے مارنے کی دھمکیاں موصول ہو رہی ہیں۔

اُنھوں نے یہ بھی کہا ہے کہ ان کے بیٹوں نے چند نامعلوم افراد کے ساتھ ان کو نقصان پہنچانے کی غرض سے ان کا تعاقب بھی کیا تھا۔

سوشل میڈیا ہی پر جاری ہونے والے ایک بیان میں ملزم کی طرف سے چند متضاد بیانات سامنے آئے تھے۔ ایک بیان میں ان کا دعویٰ تھا کہ اُنھیں ‘کوئی نشہ آور چیز دے کر یہ ویڈیوز بنائی گئی تھیں اور وہ جو حرکات کر رہے تھے وہ نشہ آور شے کے زیرِ اثر کر رہے تھے۔’

ساتھ ہی ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہ ویڈیو چند برس پرانی ہے۔ تاہم انھوں نے پولیس کے سامنے پیش ہو کر تاحال کوئی بیان نہیں دیا۔

کیٹاگری میں : Uncategorized

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں