
اتوار کو پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے واضح کیا ہے کہ کشمیریوں کے خون پر انڈیا سے تجارت نہیں ہو سکتی اور ’اگر ہم اس وقت انڈیا سے تعلقات معمول پر لاتے ہیں تو اس کا مطلب ہے ہم کشمیر کے لوگوں سے بہت بڑی غداری کریں گے۔‘
خیال رہے کہ کچھ عرصے قبل وزیر اعظم عمران خان کی صدارت میں وفاقی کابینہ نے انڈیا کے ساتھ تجارت کی بحالی سے متعلق وزارتِ کامرس کی سمری مسترد کر دی تھی۔
یہ سمری دونوں ممالک کے اعلیٰ عسکری اور سویلین حکام کے رابطوں کے بعد عمران خان کی کابینہ کو بھیجی گئی تھی۔
‘آپ کا وزیراعظم آپ کے ساتھ’ کے عنوان سے عوام سے لائیو ٹیلی فون پر عمران خان نے عوام کے سوالات کے جواب دیتے ہوئے یہ بھی کہا کہ جب فوج حکومت کرتی ہے تو بدقسمتی سے ان کو ادارے کمزور کر کے حکومت میں آنا پڑتا ہے، عدلیہ اور دیگر اداروں پر کنٹرول کر کے ان کو اپنے نیچے لانا پڑتا ہے۔




