470

360 مسافروں کی گنجائش والے طیارے میں اکیلے سفر کرنے والا شخص

اور یہ کب ہوا، کیسے ہوا اور کیوں ہوا، یہ سوالات پوچھنے سے قبل یہ جان لیں کہ یہ کسی غلط فہمی کی وجہ سے ہوا نہ ہی کسی غلطی کے باعث۔

جو لوگ اس چیز کا تجربہ کر چکے ہیں اُن کے نزدیک اسے صرف ‘قسمت کا کھیل’ ہی کہا جا سکتا ہے۔
بھاویش کا تعلق دبئی سے ہے اور وہ مئی کے پہلے ہفتے میں اپنے کاروبار کے سلسلے میں ممبئی آئے تھے۔

انھوں نے کام ختم کر کے دبئی واپس جانے کی توقع میں 10 دن قبل ہی پرواز بُک کروا لی تھی۔ وہ اکثر بزنس کلاس میں سفر کرتے ہیں مگر کورونا کی وجہ سے اُنھیں لگا کہ جہاز میں زیادہ مسافر نہیں ہوں گے، تو کیوں نہ اکانومی کلاس میں ہی سفر کر لیا جائے، یوں اُنھیں ممبئی سے دبئی کا ٹکٹ 18 ہزار انڈین روپوں میں مل گیا۔
مئی کی 19 تاریخ کو صبح ساڑھے چار بجے پرواز تھی۔ بین الاقوامی قواعد کے مطابق وہ نصف شب کو ہی ایئرپورٹ پہنچ گئے جہاں چیک اِن کرواتے وقت اُنھیں معلوم ہوا کہ وہ اس طیارے میں سفر کرنے والے واحد شخص ہوں گے۔

اُنھیں بھی کچھ دیر تک یقین نہیں آیا مگر پھر اُنھیں احساس ہوا کہ یہ خواب نہیں بلکہ حقیقت ہ

کیٹاگری میں : Uncategorized

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں