414

ایک اور لاک ڈاؤن پاکستانی معیشت کے لیے کتنا خطرناک ثابت ہو سکتا ہے؟

کراچی سے متصل بلوچستان کے صنعتی قصبے حب میں ’سپر پاور‘ نامی موٹر سائیکل بنانے کا پلانٹ گذشتہ برس عارضی طور پر اُس وقت بند ہو گیا تھا جب حکومت نے ملک میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے پیش نظر لاک ڈاؤن نافذ کیا۔

یہ پلانٹ گذشتہ سال مارچ اور اپریل کے مہینے میں 20 سے 25 روز تک بند رہا جس نے اس کی پیداواری صلاحیت کو بُری طرح متاثر کیا۔ یہ پلانٹ ایک گروپ آف کمپنیز کی ملکیت ہے جس کے ایک ڈائریکٹر نوید پیرانی کہتے ہیں کہ گذشتہ برس حکومتی لاک ڈاؤن کے باعث ان کے پلانٹ کی پیداواری صلاحیت شدید متاثر ہوئی تھی۔

پیرانی کے مطابق گذشتہ برس ان کے پلانٹ میں تیار ہونے والی موٹر سائیکلوں کی فروخت میں 70 فیصد کمی دیکھنے میں آئی اور جس کی وجہ سے منافع میں چلنے والا یہ پلانٹ گذشتہ سال خسارے سے دوچار ہو گیا۔

اُنھوں نے بتایا کہ اگرچہ مئی جون میں مکمل لاک ڈاؤن کے خاتمے کے بعد سمارٹ لاک ڈاؤن کے تحت ان کے پلانٹ میں پیداواری عمل شروع ہو گیا تاہم وہ ابھی تک گذشتہ سال کے برے معاشی اثرات کو کم کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔

کیٹاگری میں : Uncategorized

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں