
(کالم نگار: قاسم محمود)
شیخ سعدی علیہ الرحمہ اپنی حکایات میں ایک حکایت نقل کرتے ہیں کہ ایک ظالم اور جابر بادشاہ نے اپنے وز یر سے مشورہ لیا کہ مجھے ایسا کیا عمل کرنا چاہیئے کہ رعایا کے لئے کارگر ثابت ہو وزیر سوچنے لگا کہ بادشاہ تو ہر وقت رعایا پر ظلم کرتا ہے اس نے کچھ سوچ کر بادشاہ کو مشورہ دیا کہ آپ دن کو تھوڑی دیر آرام کریں یہ عوام کے حق میں بہتر ہے ۔
آج کے دور میں بہت سے ایسےلوگ ہیں جو اس بادشاہ کا کردار ادا کر رہے ہیں ۔ انہیں اس بات کا کوئی احساس نہیں کہ ان پر عائد جملہ ذمہ داریوں کو کو کیسے ادا کیا جائے۔
آقا علیہ السلام کا فرمان ہے “تم میں سے ہر کوئی نگہبان ہے اور ہر ایک سے اس کی رعایا کے بارے میں پو چھا جائے گا۔
قوم کا راہنما اس کا نگران ہے اس سے اس کی رعایا کے بارے میں پوچھا جائے گا،آدمی اپنے گھر کا نگہبان ہے ، آقا اپنے خادم کا نگران ہے ،غلام اپنے آقا کے مال کا نگران ہے، عورت اپنے گھر کی نگہبان ہے ۔حضرت ابن عمر کہتے ہیں کہ میرا خیال ہے کہ آپ نے یہ بھی ارشاد فرمایا کہ آدمی اپنے باپ کے مال کا نگران ہے اس سے ا س کے بارے میں پوچھا جائے گا۔الغرض ہر شخص کسی نہ کسی طرح نگہبانی کی سلاسل میں قید ہے اور وہ اس بری الذمہ نہیں ہو سکتا۔مندرجہ بالا حدیث میں یہ توضیح بھی کی گئی ہے کہ دین کی جو بات بھی کی جائے اسے ہمیشہ اس طرح پیش کرنا چاہیئے کہ اس سے لوگوں کے دلوں میں نفرت پیدا نہ ہو۔
ایک بدو نے مسجد میں پیشاب کر دیا صحابہ نے ا س پر غصہ کیا مگر آقا علیہ السلام نے فرمایا کہ یہ اس کی لاعلمی کی وجہ سے ہے اس پر پانی بہادو اور اسے سمجھا دو کہ کہ یہ برا عمل ہے آقا علیہ السلا م کا فرمان ہے کہ لوگوں کو خوشخبری سناؤ نفرتیں نہ ڈالو۔
اب ان روایات کو سامنے رکھتے ہو ئے اگر ہم ان کا اپنے آپ اور معاشرے سے موازنہ کریں تو کیا ہم اس پرپورا اترتے ہیں؟ شاید ایک فیصد یا اس سے کچھ کم ۔حالانکہ ہمارا معاشرہ اسلامی معاشرہ ہے یہاں یہ خوبیاں بدرجہ اتم ہو نی چاہیئں ۔ہمیں تو اس حد تک حکم دیا گیا ہے کہ اگر راستے سے کوئی پتھر یا کانٹا بھی ہٹا دو تو یہ بھی صدقہ ہے ۔آج ہم اپنی کوتاہیوں اور ناکامیوں کا ملبہ دوسروں پر ڈال کر اپنے آپ کو نیک اور طیب ظاہر کرتے ہیں حالانکہ فانوسی خیالات اور حقیقت اور مجاز میں زمین آسمان کا فرق ہے ایک نقطہ محرم کو مجرم بنا دیتا ہے ۔ہم مولی کو گاجر کہ کر اپنے دل کو تسلی دیتے رہیں کہ دونوں ملتی جلتی ہیں تو ایک ہی سمجھیں مگر زمانے کو کیسے سمجھائیں گے۔کیونکہ یرقان کے مریض کو اگر ہر چیز پیلی نظر آئے تو اس میں یرقان کا کوئی قصور نہیں ہو تا بالکل اسی طرح اگر ہم اپنے اعمال سے پہلو تہی کر کے اپنے آپ کو مطمئن کرتے رہیں تو شاید یہ دلاسہ کچھ دیر تو ہمارے کام آجائے مگر
حقیقت چھپ نہیں سکتی بناوٹ کے اصولوں سے
خوشبو آنہیں سکتی کاغذ کے پھولوں سے
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم بالا ذکر کردہ بادشاہ کی روش سے نکل کر اپنا انداز اپنائیں ،لوگوں کی اور سنی سنائی باتوں پر عمل کرنے کے بجائے اپنی عقل کا استعمال کرتے ہو ئے مثبت سمت کا خود تعین کر کے اس شاہراہ پر گامزن ہوں آقا علیہ السلام کا فرمان ہے نیکی وہ ہے جو کرتے ہوئے تمہارا دل راحت محسوس کرے۔اور گناہ وہ ہے جو کرتے ہوئے تمہارا دل کھٹکے ،ا س اصول پر عمل کرتے ہو ئے اپنی زندگیاں گزاریں دلوں میں محبتیں ،خلوص ،اور اخلاص کو عام کریں۔نفرتوں ،کدورتوں اور رنجشوں کے جال سے آزادی حاصل کریں۔بھائی چارے کو عام کریں اسی میں ہماری کامیابی اور بقا کا راز مضمر ہے ۔ بقول شاعر
اخوت اس کے کہتے ہیں چھبے کانٹا جو کابل میں
تو ہندوستاں کا ہر پیرو جواں بے تاب ہو جائے




