
کیوں؟‘ یہ ایک سادہ سا سوال ہے اور یہ ایک ایسا سوال ہے جو لوگ انجیلا میکس ویل سے اکثر پوچھتے ہیں۔ پھر بھی کچھ عرصہ پہلے تک یہ امریکی خاتون اس کا جواب دینے کے لیے جدوجہد کر رہی تھیں، کیونکہ انھوں نے اپنے ایک بڑے خواب کی تلاش میں ایک عمدہ زندگی کو الٹ پلٹ کر رکھ دیا تھا۔
لیکن میکس ویل کے لیے یہ ‘کیوں’ ایک ایسا سوال ہے جو قابلِ جواب ہے۔ بہرحال، انھوں نے ایک ایسے سفر کا آغاز کیا جس کی بہت کم لوگ کوشش کرتے ہیں۔ سنہ 2013 میں انھوں نے پیدل پوری دنیا دیکھنے کا فیصلہ کیا۔
اس پیدل سفر کی وسعت میکس ویل کے منصوبے میں نہیں تھی۔ در حقیقت، وہ اپنی آرٹ کی کلاس میں ایک ایسے شخص کے بارے میں گفتگو سننے کے صرف نو ماہ بعد ہی سفر پر نکل پڑیں جس نے شاید پوری دنیا کا پیدل سفر کیا تھا۔
میکس ویل کا سفر کا فیصلہ کسی نقصان، شکست یا ذاتی بحران کا نتیجہ ہر گز نہیں تھا۔ جب انھوں نے طویل سفر پر چلنے کا فیصلہ کیا تو وہ عمر کی 30 کے پیٹے میں تھیں، کامیاب کاروبار چلا رہی تھیں اور ایک رشتے سے منسلک تھیں۔




