2,100

تھانہ صدر واہ کی حدود میں 16سالہ نوجوان کو پولیس کے ہاتھوں گولی لگنے کا معاملہ

واہ کینٹ: (محمد اسامہ چوہدری) تھانہ صدر واہ کی حدود میں 16سالہ نوجوان کو پولیس کے ہاتھوں گولی لگنے کا معاملہ،نوجوان عبداللہ ارشدکی والدہ کا موقف سامنے آیا جس میں عقیلہ ناہید زوجہ ارشد محمودنے ٹائمز نیوز اردو سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ مورخہ تین مئی 2023 رات دو بجے کے قریب سٹی چوکی انچارج ٹیکسلا ثاقب خان دیگر ملازمین کے ہمراہ ہمارے پڑوسیوں کے گھر سے زبردستی ہمارے گھر میں داخل ہوا اور میرے بیٹے عبداللہ ارشد کو اٹھا کر لے گئے، ہم وجہ پوچھتے رہے ہمیں نہیں بتائی اور بچے کی والدہ کی جانب سے پولیس کے گھر میں گھسنے کی وڈیو بھی ٹائمز نیوز اردو کو مہیہ کی گئ۔
اس موقع پر بچے کی والدہ نے مزید بتایا کہ ایس ایچ او تھانہ واہ صدر راجہ قاسم ( جو پہلے تعینات تھا )دیگر نفری کے ہمراہ گھر کے باہر موجود رہا۔ میں دو دن تک تھانے چوکی کے چکر لگاتی رہی مگر پولیس ٹال مٹول سے کام لیتی رہی،میرے بیٹے عبداللہ ارشد پر چوکی سٹی ٹیکسلا میں تشددبھی کیا گیا اور پانچ مئی 2023کو تھانہ صدر واہ پولیس نے فرضی پولیس مقابلہ بنا کر میرے بیٹے کو فائرنگ کر کے زخمی کیا اور گرفتاری ڈال دی، اور جیل بھیج دیا۔میرا بیٹا نہم کلاس کا طالب ہے اور سالانہ امتحانات دے رہا تھا، ابھی اس نے صرف دو پرچے دئیے تھے،پولیس نے میرے بیٹے کا مستقبل تباہ کردیاہے،عقیلہ ناہید بچے کی والدہ نے وزیر اعظم پاکستان، وزیر داخلہ، چیف جسٹس آف پاکستان، وزیر اعلیٰ پنجاب اورآئی جی پنجاب سے پرزوراپیل کی کہ اسے انصاف فراہم کیا جائے اورواقعے میں ملوث پولیس اہلکاروں کو عبرتناک سزا دی جائے۔
جبکہ دوسری جانب پولیس سے جب بات ہوئی تو نئے آنے والے ایس اچ او نے بتایا کہ بچہ تو اشتہاری ملزم ہے جو قتل کی واردات میں بھی ملوث ہے جبکہ ٹائمز نیوز اردو کی ٹیم تھانہ صدر واہ میں موجود رہی اور ڈاکو منٹری ثبوت مانگا تو وہ پولیس نے ٹال دیا۔ اس کے علاوہ بچے پر درج ایف آئی آر میں پولیس کی جانب سے موقف سامنے آیا کہ عبداللہ اور دیگر اس کے ساتھیوں کو رنگے ہاتھوں حسن آباد جلالہ روڈ پر وارداتیں کرتے ہوئے اور زخمی حالت میں گرفتار کیا گیا ہے۔ عبداللہ اور اس کے ساتھیوں نے پولیس پارٹی پر فائرنگ بھی کی اور اپنی ہی گولیاں لگنے سے یہ ملزمان زخمی ہوئے ہیں۔

کیٹاگری میں : Uncategorized

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں